سعید بن عبد اللہ حنفیامام حسین کے اصحاب میں سے تھے اور عاشورہ کے دن نماز ظہر کے وقت زہیر بن قین کے ساتھ امام حسین کی نماز پڑھتے وقت حفاظت کرتے رہے اور تیر اپنے جسم کے اوپر روکتے رہے اور امام کے نماز ختم کرنے کے بعد تیروں کے زخموں کی وجہ سے شہید ہو گئے ۔
سعید یا سعد بن عبد اللہ حنفی کا نام 61 ہجری قمری میں واقعہ کربلا کے شہیدوں میں ذکر ہوتا ہے۔ وہ کوفہ کے ان شہدا میں سے تھے کہ جو کوفیوں اور امام حسین کے درمیان ہونے والی خط کتابت میں خطوط پہنچانے کا کام کرتے تھے۔ اسی طرح مسلم بن عقیل کا خط امام حسین(ع) کو پہنچانے کے بعد وہ امام حسین(ع) کے کاروان کے ساتھ ہو گئے۔ سعید نے شب عاشورا امام حسین(ع) کی حمایت میں تقریر کرتے ہوئے قسم اٹھا کر کہا: اگر مجھے ستّر مرتبہ مارا جائے اور زندہ کیا جائے تو میں پھر بھی امام حسین کی حمایت سے دستبردار نہیں ہوں گا۔
نسب
سعید قبیلۂ بنی حنیفہ بن لجیم سے تھے جو قبیلۂ عدنان کی بنی بکر بن وائل کی ذیلی شاخوں میں سے ایک تھی۔[1]سعید کوفہ کے رہنے والے تھے۔اور شجاعت و عبادت میں شہرت رکھتے تھے۔ زیارت الشہدا میں ان کا نام سعد ذکر ہوا ہے۔[2]
امام حسین(ع) نے سعید کے ذریعے اس خط کا جواب ارسال کیا اور لکھا:
میں نے مسلم بن عقیل کو اپنے سفیر کے عنوان سے کوفہ روانہ کیا ہے۔ جب مسلم کوفہ پہنچے تو انھوں نے تقریر کی۔ عابس بن ابی شبیب شاکری اور حبیب بن مظاہر نے خطبہ پڑھا۔ ان دو کے بعد سعید بن عبد اللہ اٹھے اور قسم کھا کر کہنے لگے: وہ امام حسین کی مدد کے لیے قطعی ارادہ رکھتے ہیں۔ مسلم نے اس مجمع میں سعید بن عبد اللہ کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ امام کو کوفہ آنے کی دعوت دیں۔ سعید مکہ واپس آئے اور مسلم بن عقیل کا خط امام کو دیا اور خود امام کے قافلے کے ساتھ ہو گئے۔[6]
کربلا میں موجودگی
شب عاشوراامام(ع) نے اپنے اصحاب کو خیام کی پشت پر جمع کیا اور اپنی مشہور تقریر میں کہا وہ ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دیکر اور اس رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں سے چلے جائیں۔ سعید یہ سن کر اٹھے ہوئے اور کہا:
یا ابن رسول اللہ(ص)! خدا کی قسم! ہم آپ کی نصرت سے ہاتھ نہیں اٹھائیں گے .... بخدا! اگر مجھے قتل کیا جائے پھر زندہ کیا جائے، مجھے جلایا جائے اور میری خاک ہوا میں اڑا دی جائے لیکن میں پھر بھی آپ کی حمایت اور نصرت سے ہاتھ نہیں کھینچوں گا۔[7]
شب عاشورا
شب عاشورا امام حسین نے اپنے مشہور خطبہ کے بعد فرمایا: رات کی تاریکی آپ کو احاطہ کیے ہوئے ہے ،آپ چاہیں تو اپنی جان بچانے کے لیے اپنے قبیلوں کو جا سکتے ہو۔
سعيد بن عبد اللّہ اپنی جگہ سے اٹھے اور کہا:
”
اے نواسہ رسول ! خدا کی قسم ہم سے یہ نہیں ہوگا کہ آپ کو تنہا چھوڑ دیں ، ہمیں رسول اللہ کی اپنی آل کے بارے میں وصیت یاد ہے ۔ خدا کی قسم اگر ہمارے جسم ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور آپ سلامت رہیں ،ان کو آگ میں جلا دیا جائے اور وہ خاک ہو جائیں اور ایسا 70 بار ہو تو بھی ہم آپ سے جدا نا ہوںگے اپنی جانیں آپ پر فدا کر دیں گے ۔ کیسے آپ سے جدا ہوں کہ اک بار تو مرنا ہے پھر اس کے بعد عزت سرمدی اور نعمت ابدی ہے ، ایسی نعمت جس کو ہرگز زوال اور فنا نہیں ہے![8]
“
شہادت
کچھ معتقد ہیں کہ وہ روز عاشورانماز ظہر کے بعد شہید ہوئے۔ کچھ مؤرخین کے نزدیک سعید کی شہادت دسویں محرم کے دن زوال آفتاب اور نماز ظہر کے بعد ہوئی۔[9] مندرجہ ذیل رجز ان سے منسوب ہے:
عاشورا کے روز جب امام حسین نے نماز خوف ادا کی تو سعید بن عبد اللہ امام کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ سامنے سے آنے والے تیروں کو اپنے چہرے، سینے، ہاتھوں اور پہلو پر روکتے رہے تا کہ تیر مبادا امام حسین کو نہ لگیں۔[11] نقل کرتے ہیں کہ جب زخموں سے نڈھال ہو کر زمین پر گرے تو یہ دعا پڑھ رہے تھے:
خدایا! جس طرح تو نے قوم عاد و ثمود پر لعنت کی تھی اسی طرح کوفہ کی سپاہ کو بھی مورد لعن قرار دے۔ خدایا! میرا سلام و درود اپنے پیغمبر کو پہنچا اور جو میں نے اپنے جسم پر زخموں کے بدلے میں درد و رنج جھیلے ہیں انھیں ان تک پہنچا؛ کیونکہ میں پیغمبر کی حمایت و نصرت کی پاداش و اجر کا طلبگار ہوں۔[12]
پھر اپنا رخ امام حسین کی جانب کیا اور کہا: اے فرزند رسول! کیا میں نے اپنے عہد کو نبھایا؟ امام نے جواب میں ارشاد فرمایا: ہاں کیوں نہیں، تم بہشت میں مجھ سے پہلے موجود ہو گے۔[13] منقول ہے کہ شہادت کے وقت تلوار و نیزوں کے زخموں کے علاوہ 13 تیر ان کے جسم میں پیوست تھے۔[14]
مہدی ال محمد کی نظر میں
واقعہ عاشورا کے دو سو سال بعد ،مهدی ال محمد نے زیارت ناحیہ مقدسہ سعید پر سلام کے بعد آپ کی شب عاشورا گفتار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:( این تواک بار تو وریی کہ بہ ارزوی خود رسیدی و امامت را مواساہ و یاری دادی۔خداوند ما را باشما در زمرہ شهدا محشور گرداند و در اعلیٰ علیین همراهی و هم نشینی شما را بہ ما روزی دهد۔)